Endultra Technologyt Advertisement
Articles

Is it easy to end Terrorism? – Ghulam e Ghouse کیا دہشت گردی ختم کر نا آسان ہے؟

 کیا دہشت گردی ختم کر نا آسان ہے؟

Is it easy to end Terrorism?

دہشت گردی ختم کر نا ضرور آسان ہے مگر وہ جو اسکے موجد ہیں وہ اسے ختم کر نا نہیں چاہتے کیونکہ اسی میں انکا فائیدہ ہے۔دنیا حیران ہے کہ یہ کیسے مسلمان ہیں جو اپنے آپ کو ایک دوسرے کے بھائی کہتے ہیں مگر آپس میں اتنا لڑتے جھگڑتے ہیں کہ ایک دوسرے کی جان و مال کا لحاظ نہیں کر تے اور قتل و غارتگری میں مبتلا رہتے ہیں۔کچھ مسلمان حضرات حق جو اہل علم اور اہل دانش ہیں وہ بھی اس بات سے پریشان اور غمگین ہیں کہ یہ کیسا زمانہ آ گیا جہاں عرب ممالک میں اور خصوصا عراق، شام ، افغانستان اور پاکستان میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خون کا پیاسا بن گیا ہے۔یہ مسلمان ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں اپنے ہی بھائیوں کا قتل عام کر رہا ہے، نہ خود خوش اور پر امن اور نہ ہی دوسروں کو امن اور چین سے جینے دے رہا ہے۔سب نمازی ،سب روزے دار اور سب حلیہ سے دیندارمگر ایک بہت بڑا طبقہ اسی کی آڑ میں اور اسلام ہی کے نام پر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہے۔ داعش کے جوانوں کو اور طالبان کو دیکھے تو سب کا حلیہ دیندار ،سب کی زبانوں پر کلمہ اور تکبیر مگر سب کے سب خونی بھیڑیے۔ہر کوئی سمجھ رہا ہے کہ یہ زمانہ بہت ہی خراب اور پر فتن ہے۔ مگر جن لوگوں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ ایسا پہلی مرتبہ اور آخری مرتبہ نہیں ہو رہا ہے۔ یہ سلسلہ تو ہمارے پیغمبرّکے انتقال فرمانے کے تیس سال بعد ہی حضرت عثمانؓ کے زمانے سے شروع ہو گیا۔خود صحابہ کرام ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گے اور ہزاروں شہید کر دیے گئے۔کون حق پر تھا اور کون حق پر نہیں یہ ایک ڈبیٹیبل مسلہ ہے مگر مرے اور اجڑے تو سہی۔جنگ صفین کیا تھی؟سب قرآن کے حافظ، سب قرآن کے ہر حکم کو جانتے تھے مگر اکثریت کیا کر تی تھی؟اخلاص اور للاہیت کا کیا ہوا؟حضرت علیؓ جنہوں نے اسلام کی حفاظت کے لئے ہر قربانی دی انکے ساتھ حضرت معاویہؓ نے کیا سلوک کیا۔صرف بیٹے کی محبت میں اسے اپنا جانشین بنایا اور بیت المال کا روپیہ غیر مستحق لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے کے لئے استعمال کیا۔لوگوں سے اپنے لئے اور اپنے بیٹے یزید کے لئے طاقت کے بل پر بیت لی۔انکار کر نے والوں کو سزائیں دیں اور قتل تک کرنے کی اجازت دے دی۔یہ سب لوگ کون تھے،متقی اور پرہیزگار تھے اور ایمان والے تھے۔مارنے والے بھی قرآن اور حدیث میں ماہر اور مرنے والے بھی۔بہت سے صحابی جو میدان جنگ میں رستم و اسفند یار کے کارناموں کو حقیر ثابت کر رہے تھے وہ سب اپنی تلواروں اور تیر کمانوں کو توڑ کر گھروں میں آ بیٹھے اور سپہ سالاری کے کام سے جدا ہو کر معلمی کے کام میں مصروف ہو گئے۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جو فاتح ایران تھے اور جنگ قدسیہ کا میدان جیت چکے تھے وہ ان اندرونی اختلافات کے وقت گوشہ نشینی و گمنامی کی زندگی اپنے لئے پسند کر کے اونٹوں اور بکریوں کی نگہداشت میں مصروف ہو گئے تھے۔چالاکیوں،ریشہ دانیوں اور فریب کاریوں کے واقعات سے کوئی زمانہ اور کوئی عہد حکومت خالی نظر نہیں آتا۔حضرت امیر معاویہؓ کو یزید کو جانشین بنانے کا خیال خود اپنے فائیدے کے لئے مغیرہ بن شعبہ نے دیا تھا اور اس طرح مسلمانوں میں ایک ایسی رسم جاری کروادی جس سے جمہوریت جاتی رہی اور باپ کے بعد بیٹا بادشاہ ہو نے لگا۔یہ رسم اسلامی احکامات کے خلاف تھی مگر آج بھی جاری ہے اور آج بھی مخالفت کر نے والوں کو قید یا قتل کر دیا جا تا ہے۔حضرت امام حسینؓکی شہادت کے بعد بیس سال تک مکہ، مدینہ ،عراق اور شام کے مسلمانوں میں جو جنگیں ہویں وہ آج کی داعش اور طالبان کی لڑائیوں سے کم نہیں تھیں۔اْس وقت کے حالات کا جب مطالعہ کر تے ہیں تو کلیجہ منھ کو آ جاتا ہے اور دل نکل کر ہتھیلیوں میں آ جاتا ہے۔عراق اور کوفہ والوں کی ریشہ دانیان ،انکی غداری ،عبید اللہ بن زیاد کی زیادتی اور بے رحمی ،انکی لالچ ،حادث کربلا ،سنان بن تخفی کی بے رحمی یہ سب آج کے داعش اور طالبان سے کم نہیں ہیں۔عبداللہ بن زبیرؓ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ “لوگو! دنیا میں عراق کے آدمیوں سے برْے کہیں کے آدمی نہیں ہیں اور عراقیوں میں سب سے بدتر کوفی لوگ ہیں”۔مسلم بن عقبہ نے یزید کے حکم سے27 ذاالحجہ  63ھ میں مدینہ پر حملہ کیا اور داخل ہو کر تین دن قتل عام اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا۔جس نے یزید کے نام پر بیت کی وہ بچ گیا اور جس نے انکار کیا وہ قتل ہو گیا۔29محرم کو حصین بن نمیر نے کوہ ابو قبیس پر منجنیق نصب کر کے خانہ کعبہ پر سنگ باری شروع کی اور یہ سنگ باری تین ماہ تک جاری رہی۔اس سے خانہ کعبہ کے غلاف جل گئے اور دیواریں سیاہ ہو گئیں اور چھت گر گئی۔امام حسی کی شہادت کا بدلہ لینے کے لئے جنگ توابین لڑی گئی جسمیں ہزاروں مسلمان مارے گئے ، مختار بن ابو عبیدہ کا لڑائیوں کا سلسلہ چلا ، جنگ خوارج چلی، مختار کا دعوی نبوت اور کرسی علی کا واقعہ پیش آیا ، عبد اللہ بن زبیر کے بھائی مصعب بن زبیر کی حق اور انصاف کے لئے جنگیں اور کوفے والوں کا انکے ساتھ دھوکہ دے کر قتل کروانا ،عبدالملک بن مروان کا دھوکے کے ساتھ عمرو بن سعید کا قتل کروانایہ سب آج کے طالبان اور داعش کے ظلم و ستم سے کم نہیں تھا۔( کچھ مسلم اسکالرس کا یہ دعوی ہے کہ حضورّ کی وفات کے صرف تیس سال بعد آپکی تعلیمات کا اثر صحابہ کرام پر زائل نہیں ہو سکتا اور اس طرح کی قتل و غارتگری ہو نہیں سکتی ۔اسلامی تاریخ تو ساٹھ ستر سال بعد لکھی گئی اور لکھنے والے شعیہ اور خارجی تھے جو جان بوجھ کر تاریخ کو مسخ کر دیا اور منافق یہودی عبداللہ بن صباح نے تقوی اور پرہیز گاری کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے نام پر بدلے کی کاروائی کی ( اللہ عالم)۔کیا آج کا کوئی مسلمان کبھی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ خانہ کعبہ پر سنگ باری کرے گا یا بمباری کرے گا؟بلکل نہیں ۔مگر 72ہجری میں حجاج بن یوسف نے ماہ رمضان میں مکہ معظمہ کا محاصرہ کر کے کعبہ پر سنگ باری کی اور کوہ صفاہ کے قریب عبداللہ بن زبیر کو شہید کر کے سر تن سے جدا کر دیا اور لاش وہیں لٹکا دی۔کیا آج کوئی مسلمان ایسا کر نے کی  سوچ سکتا ہے؟کوفہ والوں نے ہمیشہ اہل بیعت کے سات شعیان علی اور شعیان حسین ہو نے کا دعوی کر نے کے باوجود حضرت علی کا ساتھ چھوڑ دیا ،حضرت امام حسین کو، حضرت مصعب بن زبیر کو اور زید بن علی بن امام حسین کو دھوکہ دیا اور انہیں قتل کروا دیا۔ حال میں صدام حسین نے کیا کیا ۔لاکھوں لوگوں کو زہریلی گیاس سے مروادیا۔موجودہ بشار الاسد کے دالد نے پچاس ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔خود بشار الاسد نے پانچ لاکھ مسلمانوں کو قتل اور تیس لاکھ کو زخمی کر دیا اور لاکھوں کو وطن چھوڑ نے پر مجبور کر دیا۔پہلی جنگ عظیم کے دوران سعودیوں نے لاکھوں ترکوں اور دیگر کو بموں اور گولیوں سے اڑا دیا۔ یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ مسلمانوں کو مسلمان ہی مارنے کا سلسلہ تب بھی تھا اور اب بھی ہے۔تب بھی نام اللہ کا اور اسلام کا لیا جاتا تھا اور آج بھی وہی ہو رہا ہے۔تب مسلمان خود ہی آپس میں سیاسی اقتدار کے لئے لڑ رہے تھے مگر اب مغربی ممالک آگ میں پیٹرول ڈال رہے ہیں۔طالبان اور داعش کیسے وجود میں آئے ،کس نے انکی مدد کی ،کس نے انہیں مال اور ہتھیار دیے یہ ہر کسی پر عیاں ہے۔سوچنا یہ ہے کہ امریکہ اور یوروپ کی اتنی بمباری کے بعد ،اتنی جنگوں کے بعد اور اتنی احتیاط کے باوجود دہشت گردی کیوں ختم ہو نے کا نام نہیں لے رہی ہے۔داعش اور طالبان کی دن بہ دن بڑھتی ہوی طاقت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی تو ہے جو انہیں مہلک ہتھیار سپلائی کر رہا ہے ۔ظاہری طور پر اس کے دو مقصد نظر آتے ہیں ۔ایک یہ کہ مسلم ممالک آپس میں لڑتے رہیں ،ہتھیاروں کی سپلائی جاری رہے اور ہتھیار بنانے والی فیکٹریاں چوبیس گھنٹے چلتی رہیں اور منافع بڑھتا رہے۔دوسرے اسرائیل کے اطراف رہنے والے ممالک کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ اسرائیل کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ نہ سکے۔ایک اور نظریہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام خود کش بمباری ،پتھر بازی، بمباری اور ہڑتال بند کریں اور عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں تب کہیں مسلہ کا حل بات چیت کے ذریعہ طئے ہو گا۔مگر نہ خود کش بمباری ختم ہو گی، نہ پتھر بازی،نہ بمباری اور نہ ہی ہڑتال اور یہ سلسلہ اور پچاس سال بھی چلتا رہے گا جس سے دنیا بھر میں دہشت اور اموات بڑھتے رہیں گے ۔بہتر یہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایسے شرائط نہ رکھتے ہوے بات چیت شروع کرے اور امن قائم کرے۔ کون جانے داعش میں کتنے غیر مسلم مسلمانوں کے حلیے میں موجود ہیں اور کتنے مسلمان لا علمی کی وجہ سے اس میں شامل ہو گئے ہیں ۔ہر حال میں داعش اور شدت پسند طالبان کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے ورنہ ان ممالک کے مسلمان آرام و چین سے جی نہیں سکتے۔مغربی ممالک میں بہت ایسے افراد ہیں جو اس کا علاج پیش کر رہے ہیں مگر حکمران اسے سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اب دہشت گردی ایک ایسے مرض میں تبدیل ہو گئی ہے جو لا علاج ہے۔مغربی ممالک کھربوں ڈالر خرچتے رہنے کے لئے تیار ہیں مگر اسکا تجزیہ کر نے کے لئے تیار نہیں ہیں۔جو مسلے بات چیت سے اور تھوڑا لے دے کر سلجھائے جا سکتے ہیں انکے لئے کھربوں ڈالر اور ہزاروں جانیں صرف کر رہے ہیں۔عرب ممالک کے بادشاہ اور ظالم ڈکٹیٹر ایک چھوٹے ملک قطر کا بائکاٹ کر نے تیار ہیں مگر انمیں اتنا دم خم نہیں کہ اقوام متحدہ سے کہہ دیں کہ ہم تمہارا بھی بائیکاٹ اْس وقت تک کریں گے جب تک تم عرب اسرائیل مسلہ حل نہیں کر دیتے۔شمالی کوریا جب سب کو ڈرا سکتا ہے تو عرب ممالک بائیکاٹ کے ذریعہ کیوں نہیں۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ہجڑے اور عیاش کبھی بہادر ہو نہیں سکتے ۔یہاں تو صرف زبانی اور اخلاقی بہادری کی ضرورت ہے۔دہشت گردی ختم کرنا بہت ہی آسان کام ہے۔اس کے لئے نہ جنگ کر نا پڑے گا نہ بمباری اور نہ ہی کھربوں ڈالر۔اسے صرف بات چیت کے ذریعہ ختم کر سکتے ہین ۱) مسلہ فلسطین بات چیت کے ذریعہ حل کیجیے ۔ ۲) مہلک ہتھیار بنانے اور فروخت کرنے کے کارخانے بند کر دیجیے ۳)دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کر دیجیے۔ صرف اتنا اگر کر دیے تو دہشت گردی جڑ سے ختم ہو جائے گی۔اسکے لئے ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر نیوز چینل میں اور ہر ڈبیٹ میں انہیں تین باتوں پر زور دیں۔

از: غلام غوث، بنگلور

Facebook Comments
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

Endultra Technologyt Advertisement
To Top
WhatsApp Join WhatsApp Group